اب اپنی خبر ہے نہ مجھے دھیان ہے اس کا
اب اپنی خبر ہے نہ مجھے دھیان ہے اس کا
جو کچھ ہے مری ذات بس احسان ہے اس کا
چپ سادھ لی دونوں نے کہ اس ایک زباں میں
کچھ میرا خسارہ ہے نہ نقصان ہے اس کا
ہیں دونوں جہاں عظمت غالب کے شواہد
اک میڈیا اور ایک جو دیوان ہے اس کا
حیراں ہوں کہ کیا ہے یہ مرا ذہن بھی دل بھی
اک دشت ہے اک خانۂ ویران ہے اس کا
کیا قیمتی شے ہوتی تھی اخلاص کی دولت
اب شہر محبت میں بھی بحران ہے اس کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.