آگ کا منظر تھا میں تھا عشق تھا
آگ کا منظر تھا میں تھا عشق تھا
ایک ویراں گھر تھا میں تھا عشق تھا
چار سو ویران تھی اک اک گلی
بند ہر اک در تھا میں تھا عشق تھا
راستے چپ تھے پریشاں زندگی
چار جانب ڈر تھا میں تھا عشق تھا
ڈھونڈنے نکلا تو تھا خود کو کبھی
جسم نیزے پر تھا میں تھا عشق تھا
آنکھ میں سب خواب تھے بکھرے پڑے
درد تھا بستر تھا میں تھا عشق تھا
کربلا باطل کی امجدؔ موت تھی
سر جھکائے شر تھا میں تھا عشق تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.