شام کی رانی جو آئی ہے ٹہلنے کے لیے
شام کی رانی جو آئی ہے ٹہلنے کے لیے
شہر تیار ہے قالین بدلنے کے لیے
اس کے سواگت میں پرندے بھی چہک اٹھے ہیں
جس نے اب توڑ دیں بیساکھیاں چلنے کے لیے
ایک دیوانہ مہارت سے غزل کہتا ہے
اس کو اک نوکری بیٹھی ہے نگلنے کے لیے
کتنے ایام کے امکاں ہیں تصور میں مرے
اک صدی کم ہے مری غزلوں کو ڈھلنے کے لیے
پانی دیتے ہیں امیدوں کو کڑی دھوپ میں ہم
صبر کرتے ہیں ثمر شاخ پہ پھلنے کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.