ہر طرف ہے موت لیکن پیاس باقی ہے ابھی
ہر طرف ہے موت لیکن پیاس باقی ہے ابھی
زندگی کی جیت ہوگی آس باقی ہے ابھی
یہ سفر کیسا سفر ہے ختم ہوتا ہی نہیں
زیست کے ہر موڑ پر بنواس باقی ہے ابھی
انورت چلنا مجھے ہے تھک نہیں سکتا ہوں میں
حادثوں میں حوصلا بنداس باقی ہے ابھی
آج ہیں تنہائیاں گلزار تھا گزرا جو کل
زندگی سوغات ہے وشواس باقی ہے ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.