Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

قتیل شفائی

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

قتیل شفائی

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں

ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی

گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں

تو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لو

جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں

میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔ

جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں

ویڈیو
This video is playing from YouTube

Videos
This video is playing from YouTube

بھوپندر سنگھ

بھوپندر سنگھ

نامعلوم

نامعلوم

متفرق

متفرق

مأخذ :
  • کتاب : kalam-e-qateel shifai (Pg. 119)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے