مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا
مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا
تغافل آپ کا اس میں اگر شامل نہیں ہوتا
نہ آئے اشک پلکوں تک یہ اچھا ہی ہوا ورنہ
چلا جاتا بھرم بھی اور کچھ حاصل نہیں ہوتا
مزہ طوفاں سے ٹکرانے کا جو معلوم ہے مجھ کو
اسی خاطر تو میں منت کش ساحل نہیں ہوتا
ہماری ہی خطائیں راستہ ہموار کرتی ہیں
عذاب آسمانی بے سبب نازل نہیں ہوتا
بدل دی تو نے خو اپنی چلو یہ مان لیتے ہیں
ترے وعدے پہ کیوں لیکن یقیں کامل نہیں ہوتا
میں اس کی کج ادائی کو نظر انداز کرتا ہوں
میں اپنے فرض سے یارو کبھی غافل نہیں ہوتا
نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہوں میں ماہرؔ
غزل کہہ کر بھی اب مجھ کو سکوں حاصل نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.