Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا

ماہر سیوہاروی

مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا

ماہر سیوہاروی

MORE BYماہر سیوہاروی

    مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا

    تغافل آپ کا اس میں اگر شامل نہیں ہوتا

    نہ آئے اشک پلکوں تک یہ اچھا ہی ہوا ورنہ

    چلا جاتا بھرم بھی اور کچھ حاصل نہیں ہوتا

    مزہ طوفاں سے ٹکرانے کا جو معلوم ہے مجھ کو

    اسی خاطر تو میں منت کش ساحل نہیں ہوتا

    ہماری ہی خطائیں راستہ ہموار کرتی ہیں

    عذاب آسمانی بے سبب نازل نہیں ہوتا

    بدل دی تو نے خو اپنی چلو یہ مان لیتے ہیں

    ترے وعدے پہ کیوں لیکن یقیں کامل نہیں ہوتا

    میں اس کی کج ادائی کو نظر انداز کرتا ہوں

    میں اپنے فرض سے یارو کبھی غافل نہیں ہوتا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہوں میں ماہرؔ

    غزل کہہ کر بھی اب مجھ کو سکوں حاصل نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے