اس کا چرچا مسجد و مینار کے اندر بھی ہے
اس کا چرچا مسجد و مینار کے اندر بھی ہے
لا مکاں شاید در و دیوار کے اندر بھی ہے
زخم مرہم میں بھی ہے تلوار کے اندر بھی ہے
دھوپ کا رستہ گھنے اشجار کے اندر بھی ہے
میں ہی اک دنیا پہ بیتا جا رہا ہوں ان دنوں
جو مرے اندر ہے وہ اخبار کے اندر بھی ہے
شہر کی رونق پہ خود کو منکشف کرتا ہوں میں
میرا آدھا جسم اب تک غار کے اندر بھی ہے
میں جسے دل میں لیے پھرتا رہا اب تک ظہیرؔ
وہ بہت سا درہم و دینار کے اندر بھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.