وہ راحت زیاں بھی نہیں زندگی کے ساتھ
وہ راحت زیاں بھی نہیں زندگی کے ساتھ
عمر رواں رواں بھی نہیں ہے خوشی کے ساتھ
وائے جگر ملال تمنا تمام شد
تم اب کسی کے ساتھ ہو وہ اب کسی کے ساتھ
سوچو جو تم بھی چل بسے دنیائے عشق سے
اور مسئلہ بھی حل نہ ہوا خود کشی کے ساتھ
تم جس جگہ پہ سر کو جھکائے ہو واں سے ہم
سر کو کٹا کے آئے ہیں خندہ سری کے ساتھ
اے دشت ناروا یہ کوئی پھول ہیں بھلا
کچھ دکھ پڑے ملیں گے یہاں ہر خوشی کے ساتھ
میں خود کو قید بند محبت میں کیوں رکھوں
جب کام چل رہا ہے مرا دل لگی کے ساتھ
یہ فیض عشق یار ہے عبداللہ ہاشمیؔ
میں سوختہ وجود کھڑا اس پری کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.