گولی لگی تڑاک سے لگتے ہی گر پڑے
گولی لگی تڑاک سے لگتے ہی گر پڑے
اس طرح چہرے بنتے ہیں منٹوں میں آنکڑے
کتنے مرے ہیں اس سے ہی طے ہوگی ہار جیت
اس سے نہیں کہ جنگ میں کتنے گئے لڑے
جس پھل کو کوئی تکنے کو تیار ہی نہیں
اس پھل کو کیا غرض وہ پکے یا گرے سڑے
اک وعدہ تیرے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوں میں
اک جھوٹ سوچتا ہوں اکیلے کھڑے کھڑے
بس بات یہ ہے اس کے بٹن ماں نے ٹانکے ہیں
ورنہ ہماری شرٹ میں ہیرے نہیں جڑے
تم جیسے ناز اداؤں کی مجھ کو تلاش تھی
کس کی دکاں سے لائے ہو کتنے کے یہ پڑے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.