وار اس کا ہوا پیروز لہو رستا ہے
وار اس کا ہوا پیروز لہو رستا ہے
چشم خاموش سے پر سوز لہو رستا ہے
اتنا آساں تو نہیں یار فرشتہ ہونا
پر نکلتے ہی کئی روز لہو رستا ہے
میں نے اک بیج اگایا تھا محبت کا مگر
دل کے اطراف زمیں دوز لہو رستا ہے
بھر چکا زخم تمنا بھی یقیناً لیکن
وہم رفتہ ہے کہ امروز لہو رستا ہے
بر سر نوک سناں دیکھ تو عدنان شریفؔ
آج بھی زمزمہ افروز لہو رستا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.