دل نے جب حرف تمنا کو زباں میں رکھا
دل نے جب حرف تمنا کو زباں میں رکھا
میں نے خاموشی کو اک پورے بیاں میں رکھا
عقل نے دشت طلب ناپ لیا نقش بہ نقش
عشق نے شوق کو بس سوز نہاں میں رکھا
ایک ہی چہرہ تھا جو گردش ایام میں بھی
ہم نے ہر حال اسے قلب مکاں میں رکھا
ہوش نے ضبط کی دیوار اٹھائی لیکن
درد کو ہم نے بھی پھر آتش جاں میں رکھا
کہہ نہ پایا جو کبھی وہ بھی فسانہ نکلا
ہم نے انکار کو بھی لطف بیاں میں رکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.