کون کرتا ہے خامہ فرسائی
کون کرتا ہے خامہ فرسائی
ہم نے لفظوں سے راکھ برسائی
ایک جملے کی بات ہے صاحب
سب تماشا ہے ہم تماشائی
بن ترے سب دکھائی دے مجھ کو
کتنی اندھی ہے میری بینائی
کیا ملا دل نگر نگر گھوما
ہاتھ آئی تو آبلہ پائی
میں نے دریا میں ڈوب کر جانا
کتنی چھچھلی ہے میری گہرائی
مجھ کو مجنوں ملا نہ لیلیٰ ہی
دیکھ لی کر کے دشت پیمائی
آپ کو راس آ گیا مقتل
ہم نے سیکھی نہیں جبیں سائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.