Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

سائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میں

آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے

دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

خاموشی بھی خوف زدہ ہے آسیبی آوازوں سے

سناٹے بھی کانپ رہے ہیں سہمے ہوئے درختوں میں

تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے

ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں

آج تو سارے باغ میں خواب مرگ کا نشہ طاری ہے

لیکن کوئی جاگ رہا ہے سوئے ہوئے درختوں میں

کون مصیبت کے عام میں ساتھ کسی کا دیتا ہے

چند پرندے چیخ رہے ہیں گرتے ہوئے درختوں میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے