روز و شب صاحب تکرار سے باتیں کرنا
روز و شب صاحب تکرار سے باتیں کرنا
مشغلہ ہے مرا دیوار سے باتیں کرنا
مشورہ ہے یہ اذیت میں بدلنا راحت
اور پھر بیٹھ کے آزار سے باتیں کرنا
جاؤ کچھ ذوق فقیری تو دکھاؤ پہلے
پھر کسی صاحب اسرار سے باتیں کرنا
یاد آتا ہے وہ سڑکوں پہ ٹہلنا پہروں
اور اس پر وہ ترا پیار سے باتیں کرنا
وہ بھلا کیسے لگائے گا علی کا نعرہ
جس کو آتا ہی نہیں دار سے باتیں کرنا
مجھ کو اپنا نہ سمجھ پھر بھی کوئی بات تو کر
باعث اجر ہے بیمار سے باتیں کرنا
دل میں جب ذات کا عرفان نمو ہو حیدرؔ
پھر کسی آئنہ بردار سے باتیں کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.