زندگی کیا بندگی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
زندگی کیا بندگی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
ایک بیوہ کی خوشی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
سارے کنبے کو پتا ہے ہم تو بچپن کے ہیں دوست
کیوں ہماری دوستی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
جھوٹ لکھنے کا چلن یہ عام جب سے ہو گیا
سچ کی حامل شاعری پر انگلیاں اٹھنے لگیں
آپ کا آیا تصور کھو گئی ماضی میں میں
میری ایسی بے خودی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
باتوں باتوں میں ہوا جھگڑا تو میکے آ گئی
اب مری گھر واپسی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
اب تو کچھ اپنی زباں سے آپ ہی کہہ دیجئے
مہروؔ اپنی خامشی پر انگلیاں اٹھنے لگیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.