اپنی دلی حسرت کا نہ سر کیجے قلم آپ
اپنی دلی حسرت کا نہ سر کیجے قلم آپ
کرتے ہیں تو کر لیجے کچھ اک اور ستم آپ
کیوں ہو نہ شب و روز اضافہ غم دل میں
فرمائیں اگر وقت مصیبت یوں کرم آپ
خوابوں میں اچھل کود کی پھر حد بھی کوئی ہے
ایسا ہے کہ اب اور مچائیں نہ ادھم آپ
اک جشن کی محفل ہو مناسب تو یہی تھا
اچھے نہیں لگتے مرا کرتے ہوئے غم آپ
اب دیں گے شکایت پہ خموشی کو توجہ
لڑتے ہیں تو لڑتے ہی چلے جاتے ہیں ہم آپ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.