Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شمع تنہا کی طرح صبح کے تارے جیسے

عرفان صدیقی

شمع تنہا کی طرح صبح کے تارے جیسے

عرفان صدیقی

شمع تنہا کی طرح صبح کے تارے جیسے

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے

چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد

آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے

حوصلے دیتا ہے یہ ابر گریزاں کیا کیا

زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے

سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہوگا

ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے

دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا

اپنے شانوں سے کوئی بوجھ اتارے جیسے

اب جو چمکا ہے یہ خنجر تو خیال آتا ہے

تجھ کو دیکھا ہو کبھی نہر کنارے جیسے

اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں

دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے

مأخذ :
  • کتاب : ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے (Pg. 49)
  • Author : عرفان صدیقی
  • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2023)
  • اشاعت : 2nd

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے