ہلکے جیسے پروا بہکے ہلکے ہلکے
ہلکے جیسے پروا بہکے ہلکے ہلکے
رات نے اپنے پر پھیلائے ہلکے ہلکے
آہستہ آہستہ بڑھتے شام کے سائے
اور سورج بھی ڈوب رہا ہے ہلکے ہلکے
پتی پتی ناچ رہے ہیں اوس کے موتی
ڈالی ڈالی پھول لہکتے ہلکے ہلکے
میں نے کہیں سے تم کو پکارا ہولے ہولے
تم نے میرا نام لیا ہے ہلکے ہلکے
میرے پیار کے امرت رس سے بوجھل بوجھل
کھلتے مندتے دوار نین کے ہلکے ہلکے
نیند میں ہلکورے لیتا ہے جسم تمہارا
دھیرے دھیرے ہولے ہولے ہلکے ہلکے
ہر پل جیسے جاگ رہا ہے بھاگ رہا ہے
کوئی جاتے پل سے کہہ دے ہلکے ہلکے
آنے والے دن کی آہٹ مدھم مدھم
کانوں میں کچھ کہتی جائے ہلکے ہلکے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.