شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے
شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے
برگ افتادہ ابھی رقص ہوا ہونا ہے
ہم تو بارش ہیں خرابوں کی ہمیں اگلے برس
در و دیوار کے چہرے پہ لکھا ہونا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
کچھ تو کرنا ہے کہ پتھر نہ سمجھ لے سیلاب
ورنہ اس ریت کی دیوار سے کیا ہونا ہے
Hoshiyari Dil-e-Nadan Bahut Karta Hai
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.