سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
ملے سفر میں ٹھکانے تو بے شمار مگر
ملا نہ ہم کو سفر میں کوئی ٹھکانے کا
کئی تو زندۂ جاوید بھی ہوئے مر کر
کسی کے ہاتھ نہ آیا سرا زمانے کا
کھلی ہوا کے سوا باغباں سے کیا مانگوں
معاوضہ نہیں لیتے طیور گانے کا
نظام زر میں کسی اور کام کا کیا ہو
بس آدمی ہے کمانے کا اور کھانے کا
Ab Main Aksar Main Nahi Rehta
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.