پھونکا ہے تو نے کیا مرے یاروں پہ آج کل
پھونکا ہے تو نے کیا مرے یاروں پہ آج کل
سب چل رہے ہیں تیرے اشاروں پہ آج کل
جو روشنی کی ر سے بھی واقف نہیں رہے
تنقید کر رہے ہیں ستاروں پہ آج کل
تعلیم دے رہے ہیں مجھے نظم و ضبط کی
وہ کر رہے ہیں بات قطاروں پہ آج کل
گر زندگی عزیز ہے لہروں سے دور رہ
کوئی نہیں بھروسہ کناروں پہ آج کل
کچھ آستین زادوں کی حالت پہ غور ہو
چھائی ہوئی ہے مردنی ساروں پہ آج کل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.