میرے پیام دل کا اگر یہ جواب ہے
میرے پیام دل کا اگر یہ جواب ہے
تو ماننا پڑے گا محبت عذاب ہے
سر چشمۂ حیات ابھی تک سراب ہے
ہر گام پر فریب نظر کامیاب ہے
قاصد سے خط لیا پڑھا اور پھاڑ کر کہا
کہہ دیجیو کہ بس یہی میرا جواب ہے
تم نے وفا کی راہ میں رکھا تو ہے قدم
یہ بھی خیال ہے کہ زمانہ خراب ہے
کیوں اتنے مطمئن ہیں اندھیروں کے مدعی
دوشیزۂ سحر تو ابھی محو خواب ہے
راہیؔ مری غزل پہ کوئی کچھ کہے مگر
وہ گنگنا اٹھیں تو غزل کامیاب ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.