سر پٹکتی رہی دشت غم کی ہوا ان کی یادوں کے جھونکے بھی چلتے رہے
سر پٹکتی رہی دشت غم کی ہوا ان کی یادوں کے جھونکے بھی چلتے رہے
شام سے تا سحر گھر کی دہلیز پر ہم چراغوں کی مانند جلتے رہے
حسن کی دھوپ نے زلف کی چھاؤں نے نور کے شہر نے رنگ کے گاؤں نے
ہر قدم پر ٹھہرنے کو آواز دی ہم کو چلنا تھا کانٹوں پہ چلتے رہے
شہر کے موڑ پر کل ملے تھے مجھے میرے بچپن کے دن میرے بچپن کی شب
گاہے آنکھیں ملیں گاہے پلکیں جھکیں گاہے رکتے رہے گاہے چلتے رہے
کونسا نام دیں ایسی برسات کو جس کے دامن میں پانی بھی ہے آگ بھی
ہوک اٹھتی رہی روح جلتی رہی دل پگھلتا رہا اشک ڈھلتے رہے
ایک منزل نہیں ایک رستہ نہیں ایک دل ایک جاں ایک چہرہ نہیں
یہ نقابوں کی دنیا کے بہروپئے بھیس لمحہ بہ لمحہ بدلتے رہے
شہر در شہر یہ خاک و خوں کی فضا سوچی سمجھی ہوئی ایک تحریک ہے
اونچے محلوں میں بیٹھے رہے اہل زر مفلسوں کے مکانات جلتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.