کب چھوڑنا تھی پیار کی منزل اسے کہنا
کب چھوڑنا تھی پیار کی منزل اسے کہنا
اک بات نے بدلا ہے مرا دل اسے کہنا
لڑ لڑ کے ہوئے جاتے ہیں اندر سے شکستہ
ہم خود ہی کھڑے اپنے مقابل اسے کہنا
کیا سوچ کے نکلے تھے سمندر کی طرف ہم
اب سوچ رہے ہیں سر ساحل اسے کہنا
آسان نہیں راہ تعلق سے پلٹنا
کچھ کام ہوا کرتے ہیں مشکل اسے کہنا
جھوٹا نہ فریبی ہے ترا چاہنے والا
بس یہ کہ نہیں تھا ترے قابل اسے کہنا
خائف ہے بھلا کس لیے رفتار سے میری
میں ہوں ہی نہیں دوڑ میں شامل اسے کہنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.