ہم طے کریں تو سات سمندر ہیں درمیاں
ہم طے کریں تو سات سمندر ہیں درمیاں
وہ فاصلے جو اپنی نگاہوں میں کم بھی ہیں
کل یوں نہ ہو کہ تجھ سے زیادہ بلند ہوں
وہ سر جو آج تیری حضوری میں خم بھی ہیں
اپنا ہی ایک دکھ ہو تو خاموش بھی رہیں
لیکن ہمارے ساتھ زمانے کے غم بھی ہیں
شق ہو گیا ہے رات کا سینہ بھی کرب سے
زلفیؔ نگار صبح کے رخسار نم بھی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.