کیوں کوئی گلشن میں پامالی کی ذلت مانگ لے
کیوں کوئی گلشن میں پامالی کی ذلت مانگ لے
سرو جھک جائے اگر سبزہ بھی قامت مانگ لے
جوہری تیرا بھرے بازار میں کوئی نہیں
آپ ہی سج کر دکاں پر اپنی قیمت مانگ لے
ہنس کے جس پایاب پانی میں اتر آیا ہے تو
کاش اس میں ڈوب بھی جانے کی ہمت مانگ لے
منتشر کب تک ارے خود کو کوئی اظہار دے
یوں سمیٹ اپنی پریشانی کہ صورت مانگ لے
سامنے آئیں تو دانشور لقب رکھتے ہیں ہم
ورنہ در پردہ کوئی جتنی جہالت مانگ لے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.