ہونے ہی لگی تھی کہیں رسوائی ہماری
ہونے ہی لگی تھی کہیں رسوائی ہماری
آتی نہ اگر بیچ میں دانائی ہماری
معیار بھی رکھا ہے سدا قد کے برابر
تم سر نہیں کر پاؤ گے اونچائی ہماری
محسوس یہ ہوتا ہے غزل ہو کے رہے گی
اس بار اگر فکر نہ پتھرائی ہماری
کیا ڈھونڈیے وہ ایسی جگہ جا کے بسا ہے
دھندلانے لگی ہے جہاں بینائی ہماری
نحریرؔ کوئی خوف نہیں بات ہے اتنی
دنیا سے کبھی بن نہ سکی بھائی ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.