ہے پاس وفا آنکھ بھگو بھی نہیں سکتے
ہے پاس وفا آنکھ بھگو بھی نہیں سکتے
مجبور ہم ایسے ہیں کہ رو بھی نہیں سکتے
کچھ اور مسافر بھی ہیں ہمراہ ہمارے
ہم اپنے سفینے کو ڈبو بھی نہیں سکتے
ہیں صبح کے شانے پہ ابھی رات کی زلفیں
ہم جاگ بھی سکتے نہیں سو بھی نہیں سکتے
قابو میں نہیں چشم گہر بار ہماری
موتی ہیں رواں اور پرو بھی نہیں سکتے
کیا کوزے میں دریا کو سموئیں گے وہ مضطرؔ
جو کوزے کو دریا میں ڈبو بھی نہیں سکتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.