Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایسا بھی انقلاب کسی روز کاش ہو

نظیر علی عدیل

ایسا بھی انقلاب کسی روز کاش ہو

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    ایسا بھی انقلاب کسی روز کاش ہو

    غربت زدوں کو دولت و زر کی تلاش ہو

    ہے فکر کہ اب ایسی جگہ بود و باش ہو

    ان کو ملوں نہ میں مری گھر گھر تلاش ہو

    جو میرے دل میں ہے وہ ترے دل میں کاش ہو

    بن جائے بات اور کسی پر نہ فاش ہو

    بیمار غم کو دیکھ کے منہ بن گیا ہے کیوں

    کیا چاہتے ہو تم کہ وہ صاحب فراش ہو

    واعظ سنیں گے ہم تری باتوں کو غور سے

    لہجہ اگر ترا نہ سماعت خراش ہو

    اترے اثر دعا میں ذرا احتیاط سے

    گر کر زمین پر نہ کہیں پاش پاش ہو

    ہم آئے ہیں عدم سے ہی لیکن نہیں قبول

    دوبارہ پھر ہماری وہاں بود و باش ہو

    گونگے بتوں کے سامنے گونگا وہ خود بھی ہے

    آذر ہو یا کہ اور کوئی بت تراش ہو

    جو ہیں برے وہ کچھ بھی نہیں اس کے سامنے

    پردے میں رکھ رکھاؤ کے جو بد قماش ہو

    خطرہ ہے اس سے بڑھتی ہوئی عمر کے لئے

    ہلکا بھی ہاتھ پاؤں میں گر ارتعاش ہو

    بچنا زمیں کی بھوک سے ممکن نہیں عدیلؔ

    تابوت آہنی میں بھی گر کوئی لاش ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے