اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے
اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے
شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے
گل ہیں کمیاب اگر خون تو ارزاں ہوگا
کسی عنواں تو کوئی رنگ جمایا جائے
آج کے دور میں انصاف کے معنی یہ ہیں
روح مر جائے مگر جسم بچایا جائے
کون شاہوں کو گداؤں سے الگ پہچانے
اب تو خلعت میں بھی پیوند لگایا جائے
آج انا الحق سے بڑی کوئی حقیقت ہی نہیں
مومنو دار پہ کس کس کو چڑھایا جائے
نئے انساں سے تعارف جو ہوا تو بولا
میں ہوں سقراط مجھے زہر پلایا جائے
موت سے کس کو مفر ہے مگر انسانوں کو
پہلے جینے کا سلیقہ تو سکھایا جائے
یوں بھی ہو سکتی ہے آویزش خیر و شر ختم
پھر سے شیطاں کو عزازیل بنایا جائے
کوئی بھی تیرے سوا مونس تنہائی نہ تھا
اک خدا تھا مگر اس کو بھی چھپایا جائے
میں محبت کا پجاری ہوں عقیدوں کا نہیں
ان بتوں کو مرے رستے سے ہٹایا جائے
مجھ کو دعویٰ تو ہے کانٹوں کو بھی روند آنے کا
اور پھولوں سے بھی دامن نہ چھڑایا جائے
کس نے مانگی تھی مرے ترک تجسس کی دعا
میرے دشمن کو مرے سامنے لایا جائے
میں قیامت کا تو منکر نہیں لیکن واعظ
مجھ سے انساں کو تماشا نہ بنایا جائے
حکم ہے سچ بھی قرینے سے کہا جائے ندیمؔ
زخم کو زخم نہیں پھول بتایا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.