روؤں کہ مسکراؤں میں اس کے نصیب پر
روؤں کہ مسکراؤں میں اس کے نصیب پر
برسی ہے اب کی بار گھٹا عندلیب پر
اک عمر ہو چکی ہے کہ میں جانکنی میں ہوں
عیسیٰ نے چار دن نہ گزارے صلیب پر
رسوائیوں سے اپنے ہی دامن کو بھر لیا
میں نے تو خاک بھی نہیں ڈالی رقیب پر
اس دن سے اپنے دل پہ بھروسہ نہیں رہا
جب دور کا گمان ہوا تھا قریب پر
دل اپنی آرزو کے گھروندے میں ہے اسیر
رستے تمام بند ہوئے ہیں غریب پر
مخلوق کے سروں سے بھی منبر بلند ہے
مشکل ہے کوئی ہاتھ اٹھے اب خطیب پر
برسے ہیں میری آنکھ سے آنسو شب فراق
اور داغ پڑ گئے ہیں ردائے حبیب پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.