ساحل پہ نہ آ جاؤں بھنور میں ہی رہوں میں
ساحل پہ نہ آ جاؤں بھنور میں ہی رہوں میں
تا عمر ترے دیدۂ تر میں ہی رہوں میں
ہے میری ضرورت کو سفر روز ہی درکار
کہتی ہے تھکن پاؤں کی گھر میں ہی رہوں میں
بہتر ہے کروں خود کو خرد کے بھی حوالے
کب تک دل ناداں کے اثر میں ہی رہوں میں
کیا اس کی ضمانت ہے کہ تو تو ہی رہے گا
اک عمر بھی اے دوست اگر میں ہی رہوں میں
اک میل کے پتھر کی طرح راہ ادب میں
گمنام بھی ہو کر کے خبر میں ہی رہوں میں
تو وقت کا آزر ہے تو پھر میں بھی اے ماہرؔ
پتھر ہوں ترے دست ہنر میں ہی رہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.