حقیقت سامنے آئے گی خوابوں کے حوالے سے
حقیقت سامنے آئے گی خوابوں کے حوالے سے
یہاں دریا ابلتے ہیں سرابوں کے حوالے سے
ہمارے بعد آوارہ بگولے رقص کرتے ہیں
تمہیں اب کون چھوتا ہے گلابوں کے حوالے سے
سلگتے ذہن کے سب راستے سیراب ہو جاتے
برس جاتا کوئی ہم پر سحابوں کے حوالے سے
ہماری صبح اپنی ہے ہماری شام ہے اپنی
ہمارا نام مت لینا کتابوں کے حوالے سے
یہاں سے اپنے خوابوں کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
بہت دن جی لیے اخترؔ حسابوں کے حوالے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.