Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دشت طرب میں غم کا سمندر ہی لے چلیں

عبد الحفیظ نعیمی

دشت طرب میں غم کا سمندر ہی لے چلیں

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    دشت طرب میں غم کا سمندر ہی لے چلیں

    شیشہ گروں میں سنگ مقدر ہی لے چلیں

    آغوش شوق حسن سے محروم ہی سہی

    آنکھوں میں اک شباب کا منظر ہی لے چلیں

    ہیں راہ میں نہال ثمر دار بھی بہت

    توشہ اگر نہیں ہے تو پتھر ہی لے چلیں

    تصویر گو مٹا نہ سکے بانہوں کی خلش

    احساس لمس کچھ تو لبوں پر ہی لے چلیں

    غم کے افق میں ڈوب گیا مہر سر خوشی

    شام حیات سے مہ و اختر ہی لے چلیں

    توڑے گئے جو مصلحتاً میکدے میں آج

    تشنہ لبو چلو وہی ساغر ہی لے چلیں

    ہنگامہ ہائے شوق کو وہ بھی ترس گئے

    گر دل نہیں ہے اب تو چلو سر ہی لے چلیں

    اب خالی ان کی بزم سے کیا جائیں دوستو

    بے مہریوں کے داغ چھپا کر ہی لے چلیں

    کچھ اور تو نہیں کہ انہیں نذر کر سکیں

    زخموں کے پھول اشکوں کے گوہر ہی لے چلیں

    خوابوں کی آرزو کا کہیں دل نہ ٹوٹ جائے

    ٹوٹی ہوئی امیدوں کے پتھر ہی لے چلیں

    آؤ کہ خیر مقدم شبنم کے واسطے

    صدیوں کی تشنگی کا سمندر ہی لے چلیں

    بے چہرگی کے شہر میں پہچان کچھ تو ہو

    نام اپنا ایک لاش پہ لکھ کر ہی لے چلیں

    پردہ برہنگی کا تو رہ جائے دوستو

    گرد سفر کی جسم پہ چادر ہی لے چلیں

    دشت غم حیات میں کھو جاؤ گے کہیں

    یادوں کے تارو آؤ تمہیں گھر ہی لے چلیں

    گھٹنے لگا ہے دم سا حصار بدن میں اب

    آؤ ذرا نعیمیؔ کو باہر ہی لے چلیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے