دشت طرب میں غم کا سمندر ہی لے چلیں
دشت طرب میں غم کا سمندر ہی لے چلیں
شیشہ گروں میں سنگ مقدر ہی لے چلیں
آغوش شوق حسن سے محروم ہی سہی
آنکھوں میں اک شباب کا منظر ہی لے چلیں
ہیں راہ میں نہال ثمر دار بھی بہت
توشہ اگر نہیں ہے تو پتھر ہی لے چلیں
تصویر گو مٹا نہ سکے بانہوں کی خلش
احساس لمس کچھ تو لبوں پر ہی لے چلیں
غم کے افق میں ڈوب گیا مہر سر خوشی
شام حیات سے مہ و اختر ہی لے چلیں
توڑے گئے جو مصلحتاً میکدے میں آج
تشنہ لبو چلو وہی ساغر ہی لے چلیں
ہنگامہ ہائے شوق کو وہ بھی ترس گئے
گر دل نہیں ہے اب تو چلو سر ہی لے چلیں
اب خالی ان کی بزم سے کیا جائیں دوستو
بے مہریوں کے داغ چھپا کر ہی لے چلیں
کچھ اور تو نہیں کہ انہیں نذر کر سکیں
زخموں کے پھول اشکوں کے گوہر ہی لے چلیں
خوابوں کی آرزو کا کہیں دل نہ ٹوٹ جائے
ٹوٹی ہوئی امیدوں کے پتھر ہی لے چلیں
آؤ کہ خیر مقدم شبنم کے واسطے
صدیوں کی تشنگی کا سمندر ہی لے چلیں
بے چہرگی کے شہر میں پہچان کچھ تو ہو
نام اپنا ایک لاش پہ لکھ کر ہی لے چلیں
پردہ برہنگی کا تو رہ جائے دوستو
گرد سفر کی جسم پہ چادر ہی لے چلیں
دشت غم حیات میں کھو جاؤ گے کہیں
یادوں کے تارو آؤ تمہیں گھر ہی لے چلیں
گھٹنے لگا ہے دم سا حصار بدن میں اب
آؤ ذرا نعیمیؔ کو باہر ہی لے چلیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.