نہ سادگی سے نہ پیچیدگی سے مطلب ہے
نہ سادگی سے نہ پیچیدگی سے مطلب ہے
ہمیں تو حسن کی فہمیدگی سے مطلب ہے
کروں تو کس لیے ظاہر کروں میں دکھ اپنا
یہاں کسے مری رنجیدگی سے مطلب ہے
جہان سارا سمجھتا ہے ہم کو آوارہ
مگر ہمیں تو جہاں دیدگی سے مطلب ہے
وہ سنگ بار بھی پتھر اٹھائے پھرتا ہے
ہمارے سر کو بھی شوریدگی سے مطلب ہے
سخن میں طرز غزل پر ہیں اس لیے قائم
کہ ہم کو بات کی پوشیدگی سے مطلب ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.