Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر ایک رخ سے کہاں روشنی نکلتی ہے

عمیر ثمر

ہر ایک رخ سے کہاں روشنی نکلتی ہے

عمیر ثمر

MORE BYعمیر ثمر

    ہر ایک رخ سے کہاں روشنی نکلتی ہے

    دیوں کے جسم سے بھی تیرگی نکلتی ہے

    ہمارے لوگوں سے پوچھو ہے تشنگی کیا شے

    تمہارے شہر سے ہو کر ندی نکلتی ہے

    دکھائی دیتے ہیں پھیکے یہ حسن والے بھی

    دوپٹہ اوڑھ کے جب سادگی نکلتی ہے

    تمہارا نام جو سنتا ہوں غیر کے لب سے

    میں کیا بتاؤں مری جان سی نکلتی ہے

    یہ لگ رہا ہے کہ تم نے بھی دیکھ لی دنیا

    تمہارے چہرے سے سنجیدگی نکلتی ہے

    پلک جھپکنے کہ مہلت بھی مل نہیں پاتی

    کسی کے ہاتھ سے جب زندگی نکلتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے