Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تلوار جب بھی آتی ہے باہر میان سے

ثمر بدایونی

تلوار جب بھی آتی ہے باہر میان سے

ثمر بدایونی

MORE BYثمر بدایونی

    تلوار جب بھی آتی ہے باہر میان سے

    کوئی نہ کوئی ہاتھ تو دھوتا ہے جان سے

    ان کے پکارے جاتے ہیں نام آسمان سے

    نرخ وفا چکاتے ہیں جو اپنی جان سے

    کیسے میں حق پرستوں میں کر لوں انہیں شمار

    حق بات جو بھی کہتے ہیں ڈرتی زبان سے

    میں پل میں پارسا سے گنہگار ہو گیا

    میرا گواہ پھر گیا اپنے بیان سے

    ہر بات ہو رہی ہے تری کیمرے میں قید

    نگرانی کر رہا ہے کوئی آسمان سے

    ہر صبح رکھے ملتے ہیں ٹیبل پہ کچھ سوال

    ہر دن گزرنا پڑتا ہے اک امتحان سے

    وہ لوگ معتبر ہیں ثمرؔ اس جہان میں

    رشتے بنائے رکھتے ہیں جو خاندان سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے