تلوار جب بھی آتی ہے باہر میان سے
تلوار جب بھی آتی ہے باہر میان سے
کوئی نہ کوئی ہاتھ تو دھوتا ہے جان سے
ان کے پکارے جاتے ہیں نام آسمان سے
نرخ وفا چکاتے ہیں جو اپنی جان سے
کیسے میں حق پرستوں میں کر لوں انہیں شمار
حق بات جو بھی کہتے ہیں ڈرتی زبان سے
میں پل میں پارسا سے گنہگار ہو گیا
میرا گواہ پھر گیا اپنے بیان سے
ہر بات ہو رہی ہے تری کیمرے میں قید
نگرانی کر رہا ہے کوئی آسمان سے
ہر صبح رکھے ملتے ہیں ٹیبل پہ کچھ سوال
ہر دن گزرنا پڑتا ہے اک امتحان سے
وہ لوگ معتبر ہیں ثمرؔ اس جہان میں
رشتے بنائے رکھتے ہیں جو خاندان سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.