Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاہے جب خاموش ہوں ہم چاہے جب باتیں کریں

محمد اسلم رضا خواجہ

چاہے جب خاموش ہوں ہم چاہے جب باتیں کریں

محمد اسلم رضا خواجہ

MORE BYمحمد اسلم رضا خواجہ

    چاہے جب خاموش ہوں ہم چاہے جب باتیں کریں

    تشنگی ہو اور پیاسے لب بہ لب باتیں کریں

    میں نے لینا ہے مری آوارگی کا امتحان

    آ کبھی کھل کر ملیں اور سب کی سب باتیں کریں

    تیرے اس حسن تکلم پر رہے دائم بہار

    ہم فریبی لالچی بھی بے طلب باتیں کریں

    گاؤں جا کر دیکھتے کاتک کے پورے چاند کو

    میں نے چاہا تھا وہاں ہم ساری شب باتیں کریں

    اس طرح باتوں کی وقعت بات ہو کر رہ گئی

    لوگ سمجھے ہی نہیں ہیں کیسے کب باتیں کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے