چاہے جب خاموش ہوں ہم چاہے جب باتیں کریں
چاہے جب خاموش ہوں ہم چاہے جب باتیں کریں
تشنگی ہو اور پیاسے لب بہ لب باتیں کریں
میں نے لینا ہے مری آوارگی کا امتحان
آ کبھی کھل کر ملیں اور سب کی سب باتیں کریں
تیرے اس حسن تکلم پر رہے دائم بہار
ہم فریبی لالچی بھی بے طلب باتیں کریں
گاؤں جا کر دیکھتے کاتک کے پورے چاند کو
میں نے چاہا تھا وہاں ہم ساری شب باتیں کریں
اس طرح باتوں کی وقعت بات ہو کر رہ گئی
لوگ سمجھے ہی نہیں ہیں کیسے کب باتیں کریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.