جانے کس غم کا وہ مارا لگتا ہے
جانے کس غم کا وہ مارا لگتا ہے
صورت سے ہی جو بے چارہ لگتا ہے
عشق بنا دیتا ہے جس کو بھی مجنوں
وہ تو سب کو ہی آوارہ لگتا ہے
پیٹ بھرا ہو تو اچھی لگتی ہے غزل
بھوک میں کیول بھوجن پیارا لگتا ہے
جیب بھری ہو تو ملنا ساقی سے تم
غربت میں عاشق بیچارہ لگتا ہے
نغمے گاؤ مسکاؤ تم چپ کیوں ہو
محفل کا غمگین نظارہ لگتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.