گھات میں تیز ہوائیں تھیں جہاں رکھا تھا
گھات میں تیز ہوائیں تھیں جہاں رکھا تھا
کیا گلہ تجھ سے مقدر میں دھواں رکھا تھا
میں وہاں تھا ہی نہیں یار جہاں رکھا تھا
ٹھیک سے یاد نہیں خود کو کہاں رکھا تھا
پھر خدا جانے زمانے کو پتہ کیسے چلا
ہم نے تو عشق ترا دل میں نہاں رکھا تھا
پھر بھی ہر شخص تری کھوج میں مصروف رہا
تو نے حالانکہ بہت خود کو عیاں رکھا تھا
سوچتا ہوں کہ ہواؤں سے شکایت کیسی
ہم چراغوں کے مقدر میں دھواں رکھا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.