راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے
راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے
یہ ستارے تو وہی ہیں مرے آنگن والے
سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا
کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے
بجلیاں ڈھونڈھ رہی ہیں کوئی گرنے کی جگہ
اتنے محفوظ نہیں آج نشیمن والے
شاید اب پھوٹے گریباں سے جنوں کا انکر
آج جھونکے تو ہواؤں کے ہیں ساون والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.