Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے

راہی معصوم رضا

راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے

    یہ ستارے تو وہی ہیں مرے آنگن والے

    سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا

    کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے

    بجلیاں ڈھونڈھ رہی ہیں کوئی گرنے کی جگہ

    اتنے محفوظ نہیں آج نشیمن والے

    شاید اب پھوٹے گریباں سے جنوں کا انکر

    آج جھونکے تو ہواؤں کے ہیں ساون والے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے