کتنا ہے گہرا وقت کا دھارا کہا نہ جائے
کتنا ہے گہرا وقت کا دھارا کہا نہ جائے
کس کو ہے احتیاط کا یارا کہا نہ جائے
کل رات آسمان سے ٹوٹا تو تھا مگر
کس کے نصیب کا تھا ستارا کہا نہ جائے
سب کی نظر اٹھی ہے ادھر دیکھتے ہیں سب
کس کی طرف ہے اس کا اشارا کہا نہ جائے
اس طرح سے دبی ہوئی یادوں کو مت کرید
بن جائے کب یہ راکھ شرارا کہا نہ جائے
گزرا ہے کیسی کیسی اذیت سے صبح تک
کل رات اعتبار کا مارا کہا نہ جائے
جس کا خیال ٹوٹتے لمحوں کا ہے رفیق
ایمنؔ کبھی وہ ہوگا ہمارا کہا نہ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.