Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے

کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں

اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر

دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں

کیسے بے رحم ہیں صیاد الٰہی توبہ

موسم گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں

کون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے

سامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں

دل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے

میرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں

چار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی

وہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں

حال دل یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر

مدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں

جلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے

دیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں

عاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ

دل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں

RECITATIONS

فصیح اکمل

فصیح اکمل,

00:00/00:00
فصیح اکمل

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں فصیح اکمل

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے