پہیے گھما رہا ہوں میں قسمت کی ریل کے
پہیے گھما رہا ہوں میں قسمت کی ریل کے
پٹری ہی میل کی ہے نہ رستے ہیں میل کے
سب ہی لگے ہیں نان و نمک کی تلاش میں
چکی چلا رہے ہیں سبھی قیدی جیل کے
ضائع نہ ہونے دوں گا میں یہ بادۂ خراب
تازہ بھروں گا پہلی کو اندر انڈیل کے
چڑیوں سے باز مرتے ہوئے دیکھ دیکھ کے
ناخن بڑھے ہی جاتے ہیں خونی چڑیل کے
باری نہ آئی بیٹھ کے بس دیکھتے رہے
ہم بارہویں کھلاڑی محبت کے کھیل کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.