Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیکھتے رہ گئے سب مونس و غم خوار مجھے

احسان دانش کاندھلوی

دیکھتے رہ گئے سب مونس و غم خوار مجھے

احسان دانش کاندھلوی

MORE BYاحسان دانش کاندھلوی

    دیکھتے رہ گئے سب مونس و غم خوار مجھے

    ایک آہنگ بقا لے گئی اس پار مجھے

    شب کو اک نغمۂ بے لفظ ہے دل کی آواز

    گم نہ کر دے یہ مرے ساز کی جھنکار مجھے

    جانے یہ عشق کا فن ہے کہ مصور کا کمال

    اس کی تصویر سے کرتا ہے جو اظہار مجھے

    ان کے کوچے میں بہر گام یہ ہوتا ہے گماں

    جیسے پہچان رہے ہوں در و دیوار مجھے

    جن نشیبوں میں نہیں نشو و نما کے جوہر

    ان پہ قدرت نے کیا لا کے ضیا بار مجھے

    شرط تقدیس سفر ہے یہ تعجب تو نہیں

    چل پڑے لے کے جو یہ ریت کی دیوار مجھے

    تشنگی آتی ہے ہر قوس میں ہر خط میں نظر

    ختم صدیوں میں کرے گا مرا فن کار مجھے

    دیکھتا ہوں جو سینماؤں پہ خلقت کا ہجوم

    بند ہوتے نظر آتے ہیں یہ بازار مجھے

    جانے اس حسن کے بازار پہ کیا بیت گئی

    منہ دکھاتے نہیں کیوں اس کے خریدار مجھے

    کھیت جب تیز ہواؤں سے نرت کرتے ہیں

    لگتے ہیں بڑھ کے حسینوں سے طرحدار مجھے

    میری دکان میں قندیل جلیں یا نہ جلیں

    جانتے ہیں مری صنعت کے خریدار مجھے

    بعض گلدستوں کے پھولوں سے سر بزم سخن

    صاف آئی ہے مرے خون کی مہکار مجھے

    مجھ کو تنہا نہ کرو رنگ جہاں ہے کچھ اور

    کل کا سورج نظر آتا ہے دھواں دھار مجھے

    اب تو دستک بھی کوئی دے تو شرر اڑتے ہیں

    جلد پتھر سے نکالے مرا فن کار مجھے

    اترا جس روز بھی دانشؔ مرا مٹی کا لباس

    پا سکے گی نہ کہیں وقت کی رفتار مجھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے