دیکھتے رہ گئے سب مونس و غم خوار مجھے
دیکھتے رہ گئے سب مونس و غم خوار مجھے
ایک آہنگ بقا لے گئی اس پار مجھے
شب کو اک نغمۂ بے لفظ ہے دل کی آواز
گم نہ کر دے یہ مرے ساز کی جھنکار مجھے
جانے یہ عشق کا فن ہے کہ مصور کا کمال
اس کی تصویر سے کرتا ہے جو اظہار مجھے
ان کے کوچے میں بہر گام یہ ہوتا ہے گماں
جیسے پہچان رہے ہوں در و دیوار مجھے
جن نشیبوں میں نہیں نشو و نما کے جوہر
ان پہ قدرت نے کیا لا کے ضیا بار مجھے
شرط تقدیس سفر ہے یہ تعجب تو نہیں
چل پڑے لے کے جو یہ ریت کی دیوار مجھے
تشنگی آتی ہے ہر قوس میں ہر خط میں نظر
ختم صدیوں میں کرے گا مرا فن کار مجھے
دیکھتا ہوں جو سینماؤں پہ خلقت کا ہجوم
بند ہوتے نظر آتے ہیں یہ بازار مجھے
جانے اس حسن کے بازار پہ کیا بیت گئی
منہ دکھاتے نہیں کیوں اس کے خریدار مجھے
کھیت جب تیز ہواؤں سے نرت کرتے ہیں
لگتے ہیں بڑھ کے حسینوں سے طرحدار مجھے
میری دکان میں قندیل جلیں یا نہ جلیں
جانتے ہیں مری صنعت کے خریدار مجھے
بعض گلدستوں کے پھولوں سے سر بزم سخن
صاف آئی ہے مرے خون کی مہکار مجھے
مجھ کو تنہا نہ کرو رنگ جہاں ہے کچھ اور
کل کا سورج نظر آتا ہے دھواں دھار مجھے
اب تو دستک بھی کوئی دے تو شرر اڑتے ہیں
جلد پتھر سے نکالے مرا فن کار مجھے
اترا جس روز بھی دانشؔ مرا مٹی کا لباس
پا سکے گی نہ کہیں وقت کی رفتار مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.