بہم کچھ اس طرح ہونے کے سب اسباب کرتا ہے
بہم کچھ اس طرح ہونے کے سب اسباب کرتا ہے
وہ میری خاک کو چھو کر ستارہ یاب کرتا ہے
مرے شوق سفر کی اک یہ ادنیٰ سی کرامت ہے
سمندر خود ہی اپنے آپ کو پایاب کرتا ہے
یہ کیسی پیاس ہے پی جاتی ہے کاریز تک کو بھی
یہ کیسا غم ہے دل کو اور بھی سیراب کرتا ہے
کبھی دامن پسارا ہی نہیں مہتاب کے آگے
ہماری راہ روشن کرمک شب تاب کرتا ہے
یہ آنکھوں کا علاقہ ہے یہاں بچ کر قدم رکھیے
کہ دل جیسے شناور کو بھی یہ غرقاب کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.