شاید اسی لئے کہ وہ خود تشنہ کام ہے
شاید اسی لئے کہ وہ خود تشنہ کام ہے
واعظ یہ کہہ رہے ہیں کہ پینا حرام ہے
جو کچھ کہا ہے میں نے وہ تیرا پیام ہے
کس منہ سے یہ کہوں کہ یہ میرا کلام ہے
وہ آدمی جو اپنی غرض کا غلام ہے
اس کو بھی آج دعویٰٔ فکر عوام ہے
یوں جھانکتا ہے چاند گھٹاؤں کی اوٹ سے
محسوس ہو رہا ہے کہ وہ ہم کلام ہے
مشکل ہے راہ اور ہے منزل نظر سے دور
راہیؔ یہ اس کی بات ہے جو سست گام ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.