انگلیاں مجھ پہ جو سرکار اٹھا دیتے ہو
انگلیاں مجھ پہ جو سرکار اٹھا دیتے ہو
اور بہتر مرا کردار بنا دیتے ہو
جام میں زہر کو چپکے سے ملانے والو
عمر لمبی ہو مری یہ بھی دعا دیتے ہو
آئنہ تم کو دکھانے کی کرے جو کوشش
تم بھی اس پر کوئی الزام لگا دیتے ہو
راستوں پر مرے کانٹوں کو بچھانے والو
تم مرے پاؤں کی رفتار بڑھا دیتے ہو
گھوٹ دیتے ہو گلا پہلے مری چاہت کا
اور پھر مجھ کو حسیں خواب دکھا دیتے ہو
زندگی جینے کے آداب ہوا کرتے ہیں
با ادب ہو کے بھی یہ بات بھلا دیتے ہو
آپ سے اس کو زیادہ ہے شکایت روبیؔ
آپ جس پر یہ دل و جان لٹا دیتے ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.