Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک تماشا جان کر دل اپنا بہلانے گئے

ظفر مرزاپوری

اک تماشا جان کر دل اپنا بہلانے گئے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    اک تماشا جان کر دل اپنا بہلانے گئے

    ایک دیوانے کو کتنے لوگ سمجھانے گئے

    عیش و خوشحالی کے دن میں کوئی بیگانہ نہ تھا

    شمع کے بجھتے ہی اڑ کر سارے پروانے گئے

    پتھروں کے درمیاں تھے یا تھا صحبت کا اثر

    جوہری کی آنکھ سے میرے نہ پہچانے گئے

    بھور میں خوش ہو کے کتنا جھومنے لگتا ہے پیڑ

    اس کی جانب کچھ پرندے گیت جب گانے گئے

    ڈر ہے ساقی کی سخاوت پر نہ آنچ آئے کہیں

    میکدے سے لے کے خالی کتنے پیمانے گئے

    کیا خبر تھی بھوک کے باعث پھنسیں گے جال میں

    کھیت کی جانب پرندے دیکھ کر دانے گئے

    در حقیقت چند لوگوں کے یہاں تصنیف ہیں

    میر و غالب کے مگر ہر گھر میں افسانے گئے

    جب خبر پھیلی کہ کشتی پھنس گئی گرداب میں

    شہر والے گھاٹ پر تفریح فرمانے گئے

    یہ کتابیں یہ رسائل لائبریری میں ظفرؔ

    کہہ رہی ہیں کس طرف اردو کے دیوانے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے