Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیسی نفرت ہے یہ نفرت کی بھی حد ہوتی ہے

حبیب ندیم

کیسی نفرت ہے یہ نفرت کی بھی حد ہوتی ہے

حبیب ندیم

MORE BYحبیب ندیم

    کیسی نفرت ہے یہ نفرت کی بھی حد ہوتی ہے

    میرے دشمن کی رفیقوں سے مدد ہوتی ہے

    شہر میں اہل سیاست کا ستم تو دیکھو

    وہ جو کہتے ہیں وہی بات سند ہوتی ہے

    جھوٹ زردار کا حکمت کی طرح ہوتا ہے

    بات نادار کی سچ ہو بھی تو رد ہوتی ہے

    اس حقیقت کے تصور سے لرزتا ہے بشر

    زیست کی آخری منزل ہی لحد ہوتی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے