کیسی نفرت ہے یہ نفرت کی بھی حد ہوتی ہے
کیسی نفرت ہے یہ نفرت کی بھی حد ہوتی ہے
میرے دشمن کی رفیقوں سے مدد ہوتی ہے
شہر میں اہل سیاست کا ستم تو دیکھو
وہ جو کہتے ہیں وہی بات سند ہوتی ہے
جھوٹ زردار کا حکمت کی طرح ہوتا ہے
بات نادار کی سچ ہو بھی تو رد ہوتی ہے
اس حقیقت کے تصور سے لرزتا ہے بشر
زیست کی آخری منزل ہی لحد ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.